Lecture 2 Mo'rab Munsarif Noun Conjugation
معرب منصرف اسم کی گردان
By: Muhammad Noman
کسی بھی زبان میں کوئی اسم جب گفتگو یا تحریر میں استعمال ہوتا ہے تو وہ تین حالتوں میں سے کسی ایک میں ہی استعمال ہوتا ہے۔ چوتھی حالت کوئی نہیں ہوسکتی۔ یا تو وہ اس عبارت میں فاعل کے طور پر مذکور ہوگا۔ یعنی حالتِ فاعلی میں ہوگا۔ یا پھر حالتِ مفعولی میں ہوگا اور یا کسی دوسرے اسم وغیرہ کی اضافت اورتعلق سے مذکور ہوگا۔ اس حالت کو حالتِ اضافی کہتے ہیں۔ دورانِ استعمال اسم کی حالت کو انگریزی میں Caseکہتے ہیں۔ انگریزی میں بھی Case تین ہی ہوتے ہیں جوNominative یا Objective یا Possessive کہلاتے ہیں۔ عربی میں بھی اسم کے استعمال کی یہی تین حالتیں ہوتی ہیں۔ انہیں حالتِ رفع، حالتِ نصب اور حالتِ جر یا مختصراً رفع، نصب اور جر کہتے ہیں۔ خیال رہے کہ جو اسم حالتِ رفع میں ہو اسے مرفوع ، جو حالتِ نصب میں ہو اسے منصوب اور جو حالتِ جر میں ہو اسے مجرور کہتے ہیں۔ اس طرح اردو اور انگریزی گرامر کی مدد سے عربی گرامر میں اسم کی حالت کو بآسانی سمجھا جاسکتا ہے صرف اصطلاحی ناموں کا فرق ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم عربی کی اصطلاحات کو مندرجہ ذیل نقشہ سے سمجھ کر یاد کرلیں:
|
انگریزی |
Nominative Case |
Objective Case |
Possessive Case |
|
عربی |
رَفۡعٌ |
نَصۡبٌ |
جَرٌّ |
|
اردو |
حالتِ فاعلی |
حالتِ مفعولی |
حالتِ اضافی |
مختلف حالتوں میں استعمال ہوتے وقت بعض زبانوں کے اسماء میں کچھ تبدیلی واقع ہوتی ہے جس کی مدد سے ہم پہچانتے ہیں کہ عبارت میں کوئی اسم کس حالت میں استعمال ہوا ہے۔ اس بات کو ہم اردو کے ایک جملہ کی مدد سے سمجھتے ہیں، مثلاً "حامد نے محمود کو مارا"۔ اب اگر ہم آپ سے پوچھیں کہ اس میں فاعل کون ہے اور مفعول کون ہے، تو آپ فوراً بتادیں گے کہ حامد فاعل اور محمود مفعول ہے۔ لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ جملہ کا مفہوم سمجھتے ہیں۔ اس لیے یہ بات بتانے میں آپ کو مشکل پیش نہیں آئی۔
اب فرض کریں کہ ایک شخص کو اردو نہیں آتی اور وہ گرامر کی مدد سے اردو سیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ پہلے وہ عبارت میں اسم کی حالت کو پہچانے۔ اس کے بعد ہی ممکن ہوگا کہ وہ عبارت کا صحیح مفہوم سمجھ سکے۔ اس لیے پہلے ہمیں اس کو کوئی علامت یا نشانی بتانی ہوگی جس کی مدد سے وہ مذکورہ جملہ میں فاعل اور مفعول کو پہچان سکے۔ اس پہلو سے آپ مذکورہ جملہ پر دوبارہ غور کرکے وہ علامت معلوم کرنے کی کوشش کریں جس کی مدد سے اس میں فاعل اور مفعول یعنی عبارت میں اسم کی حالت کو پہچانا جا سکے۔ جو طلبہ اس کوشش میں ناکام رہے ہیں ان کی مدد کے لیے اس جملہ میں تھوڑی سی تبدیلی کردیتے ہیں۔ آپ اس پر دوبارہ غور کریں۔ ان شاء اللہ
اب آپ علامت کو پہچان لیں گے۔ "حامد کو محمود نے مارا"۔ اب آپ آسانی سے بتاسکتے ہیں کہ اردو میں زیادہ تر فاعل کے ساتھ "نے" اور مفعول کے ساتھ "کو" لگا ہوا ہوتا ہے۔ اسی طرح اب یہ بھی سمجھ لیں کہ اردو میں حالتِ اضافی میں زیادہ تر دو اسماء کے درمیان"کا" یا "کی" لگا ہوتا ہے۔ جیسے لڑکے کا قلم، لڑکے کی کتاب وغیرہ۔
اب سوال یہ ہے کہ عربی کی عبارت میں استعمال ہونے والے اسماء کی حالت کو پہچاننے کی علامات کیا ہیں۔ اس ضمن میں پہلی بات یہ نوٹ کرلیں کہ یہ علامات ایک سے زیادہ ہیں۔ لیکن اس سبق میں ہم زیادہ استعمال ہونے والی ایک علامت کو سمجھ کر اس کی مشق کریں گے۔ تاکہ ذہن میں اسم کی حالت کو پہچاننے کا تصور واضح ہوجائے۔ اس کے بعد اگلے اسباق میں دوسری علامات جب زیرِ مطالعہ آئیں گی تو انہیں سمجھنا ان شاء اللہ مشکل نہیں رہے گا۔
اب نوٹ کرلیجئے کہ عربی زبان کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ اس کے اسّی پچاسی فیصد (80-85%)اسماء ایسے ہیں جو رفع، نصب اور جر تینوں حالتوں میں ایک مختلف شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اس سے آپ کے ذہن میں شاید یہ بات آئے کہ اس طرح تو عربی بڑی مشکل زبان ہوگی جس میں ہر اسم کے لیے ایک کے بجائے تین اسم یعنی تین لفظ یاد کرنا پڑیں گے مگر اس وہم کی بنا
پر گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک اسم کے لیے ایک ہی لفظ یاد کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ عربی زبان کے اسماء کو استعمال کرتے وقت حالت کے لحاظ سے جو تبدیلی آتی ہے وہ لفظ کے صرف "آخری حصّے"میں واقع ہوتی ہے۔ مثلاً کوئی
اسم اگر پانچ حرفوں کا ہے تو پہلے چار حرفوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ صرف آخری یعنی پانچویں حرف کے پڑھنے کا طریقہ بدل جائے گا۔ اسی طرح کوئی اسم اگر تین حرفوں کا ہے تو پہلے دو حرفوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ صرف آخری یعنی تیسرے حرف کے پڑھنے کا طریقہ بدلے گا۔ مثلاً حالتِ فاعلی، مفعولی اور اضافی میں لفظ لڑکا کی عربی علی الترتیب "وَلَدٌ، وَلَدًا اور وَلَدٍ" ہوگی۔
ابھی ہم نے پڑھا ہے کہ عربی کے تقریبا اسی پچاسی فیصد اسماء کا آخری حصہ رفع، نصب اور جر تینوں حالتوں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ جو اسم تینوں حالتوں میں یہ تبدیلی قبول کرتا ہے اسے عربی قواعد میں "مُعۡرَب مُنۡصَرِف" یا صرف "منصرف" بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی پہچان کا عام طریقہ یہ ہے کہ اس کے آخری حرف پر تنوین آتی ہے۔ یعنی حالتِ رفع میں دو پیش (-ٌ )، حالتِ نصب میں دو زبر (-ً) اور حالتِ جر میں دو زیر (-ٍ)ہوتی ہے۔ اس معرب منصرف کے آخری حرف کی تبدیلی کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:
چند معرب منصرف اسماء
کی گردان مع معانی
|
حالتِ رفع |
معنی |
حالتِ نصب |
حالتِ جر |
|
مُحَمَّدٌ |
نام ہے |
مُحَمَّدًا |
مُحَمَّدٍ |
|
شَیْءٌ |
چیز |
شَیْئًا |
شَیْءٍ |
|
جَنَّةٌ |
باغ |
جَنَّةً |
جَنَّةٍ |
|
بِنْتٌ |
لڑکی |
بِنْتًا |
بِنْتٍ |
|
سَمَآءٌ |
آسمان |
سَمَآءً |
سَمَآءٍ |
|
سُوْ
ءٌ |
برائی |
سُوْ
ءًا |
سُوْ
ءٍ |
اُمید ہے کہ مندرجہ بالا مثالوں میں آپ نے یہ بات نوٹ کرلی ہوگی کہ:
No comments:
Post a Comment