Lecture 3
Ghair Munsarif, Demonstrative Nouns and Pronouns
غیر منصرف، اسمِ اشارہ اور ضمائر
By: Muhammad Noman
گزشتہ سبق میں ہم نے یہ پڑھا ہے کہ عربی کے تقریباً 80-85فیصداسماء کا آخری حصہ تینوں حالتوں میں تبدیل ہوجاتا ہے اور ایسے اسماء کو منصرف کہتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی 15-20فیصد اسماء تبدیل ہوتےہیں یا نہیں؟ اور عبارت میں ان کی حالت کو کیسے پہچانتے ہیں؟ اس سبق میں ہم نے یہی بات سمجھنی ہے۔
عربی کے باقی پندرہ بیس فیصد اسماء جو منصرف نہیں ہیں، ان میں سے زیادہ تر ایسے ہوتے ہیں جن کا آخری حرف تینوں حالتوں میں نہیں بدلتا بلکہ وہ صرف دو شکلیں اختیار کرتے ہیں یعنی حالتِ رفع میں ان کی شکل الگ ہوتی ہے لیکن نصب اور جر دونوں حالتوں میں ان کی شکل ایک جیسی رہتی ہے۔ ایسے اسماء کو عربی قواعد میں"معرب غیر منصرف" یا صرف "غیر منصرف"بھی کہا جاتا ہے۔ اسم غیر منصرف کے آخری حرف کی تبدیلی کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:
چند معرب غیر منصرف اسماء
کی گردان مع معانی
|
حالتِ رفع |
معنی |
حالتِ نصب |
حالتِ جر |
|
اِبْرَاھِیْمُ |
مرد کا
نام |
اِبْرَاھِیْمَ |
اِبْرَاھِیْمَ |
|
مَکَّةُ |
شہر کا نام |
مَکَّةَ |
مَکَّةَ |
|
مَرْیَمُ |
عورت کا
نام |
مَرْیَمَ |
مَرْیَمَ |
|
اِسْرَائِیْلُ |
حضرت یعقوب ؑ کا لقب |
اِسْرَائِیْلَ |
اِسْرَائِیْلَ |
|
اَحْمَرُ |
سرخ |
اَحْمَرَ |
اَحْمَرَ |
|
اَسْوَدُ |
سیاہ |
اَسْوَدَ |
اَسْوَدَ |
اُمید ہے کہ مندرجہ بالا مثالوں میں آپ نے یہ بات نوٹ کرلی ہوگی کہ:
i) غیر
منصرف اسماء کی نصب اور جر ایک ہی شکل میں آتی ہے۔ مثلاً اِبْرَاھِیْمُ
حالتِ
رفع سے حالتِ نصب میں اِبْرَاھِیْمَ ہوگیا لیکن حالتِ جرمیں
اِبْرَاھِیْم ِ نہیں ہوا بلکہ اِبْرَاھِیْمَ ہی رہا۔ اسی طرح باقی اسماء کی بھی نصب اور جر
میں ایک ہی شکل ہے۔
ii) غیر
منصرف اسماء کے آخری حرف پر حالتِ رفع میں ایک پیش(-ُ)اور نصب اور جر دونوں حالتوں میں صرف ایک زبر (-َ)آتی ہے۔ لہٰذا ایک زبر (-َ)لکھتے وقت الف کا اضافہ نہیں ہوتا۔ یہ قاعدہ صرف دو زبر(-ً)کے لیے مخصوص ہے۔ یاد رکھئے کہ اسم غیر منصرف کے آخر پر تنوین کبھی نہیں
آتی۔جس کی وجہ سے منصرف اور غیر منصرف اسماء میں تمییز کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
عربی زبان کے کچھ گنے چنے اسماء ایسے بھی ہوتے ہیں جو رفع، نصب، جر تینوں حالتوں میں کوئی تبدیلی قبول نہیں کرتے اور تینوں حالتوں میں ایک جیسے رہتے ہیں۔ ایسے اسماء کو مَبْنِی کہتے ہیں۔ ان کا کوئی قاعدہ نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں بھی ہمارا طریقۂ کار یہ ہوگا کہ ذخیرۂ الفاظ میں ان کے آگے (م) بناکر ہم نشاندہی کریں گے کہ یہ الفاظ مبنی ہیں۔ ان کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں :
چند مبنی اسماء
کی گردان مع معانی
|
حالتِ رفع |
معنی |
حالتِ نصب |
حالتِ جر |
|
ھٰذَا |
یہ (مذکّر) |
ھٰذَا |
ھٰذَا |
|
اَلَّذِیْ |
جو
کہ (مذکّر) |
اَلَّذِیْ |
اَلَّذِیْ |
|
تِلْکَ |
وہ (مؤنّث) |
تِلْکَ |
تِلْکَ |
ہر زبان میں کسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کچھ الفاظ استعمال ہوتے
ہیں۔ جیسے اردو میں "یہ ۔
وہ ۔ اِس
۔ اُس " وغیرہ ہیں ۔ عربی میں ایسے الفاظ کو اسماء
الاشارہ کہتے ہیں۔اسماء اشارہ دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ (i)قریب کے لیے جیسے اردو
میں"یہ"اور "اِس" (This/These)ہیں۔ (ii) بعید کے لیے جیسے اردو میں
"وہ"اور "اُس" (That/Those) ہیں ۔
اشارہ قریب اور اشارہ بعید کے لیے استعمال ہونے والے عربی اسماء یہاں دئیے
جارہے ہیں ۔
اشارہ قریب
|
|
|
رفع |
نصب |
جر |
ترجمہ |
|
مذکر |
واحد |
ہٰذَا |
ہٰذَا |
ہٰذَا |
یہ ایک
مذکر |
|
مثنیّٰ |
ہٰذَانِ |
ہٰذَیۡنِ |
ہٰذَیۡنِ |
یہ دو مذکر |
|
|
جمع |
ہٰۤـؤُلَا ٓءِ |
ہٰۤـؤُلَا ٓءِ |
ہٰۤـؤُلَا ٓءِ |
یہ سب
مذکر |
|
|
مؤنث |
واحد |
ہٰذِہٖ |
ہٰذِہٖ |
ہٰذِہٖ |
یہ ایک مؤنث |
|
مثنیّٰ |
ہَاتَانِ |
ہَاتَیۡنِ |
ہَاتَیۡنِ |
یہ دو
مؤنث |
|
|
جمع |
ہٰۤـؤُلَآءِ |
ہٰۤـؤُلَآءِ |
ہٰۤـؤُلَآءِ |
یہ سب مؤنث |
اشارہ بعید
|
|
|
رفع |
نصب |
جر |
ترجمہ |
|
مذکر |
واحد |
ذٰلِکَ |
ذٰلِکَ |
ذٰلِکَ |
وہ ایک مذکر |
|
مثنیّٰ |
ذٰنِکَ |
ذَیۡنِکَ |
ذَیۡنِکَ |
وہ دو مذکر |
|
|
جمع |
اُولٰٓئِکَ |
اُولٰٓئِکَ |
اُولٰٓئِکَ |
وہ سب مذکر |
|
|
مؤنث |
واحد |
تِلۡکَ |
تِلۡکَ |
تِلۡکَ |
وہ ایک مؤنث |
|
مثنیّٰ |
تَانِکَ |
تَیۡنِکَ |
تَیۡنِکَ |
وہ دو مؤنث |
|
|
جمع |
اُولٰٓئِکَ |
اُولٰٓئِکَ |
اُولٰٓئِکَ |
وہ سب مؤنث |