Saturday, 29 May 2021

Lecture 3 Ghair Munsarif, Demonstrative Nouns and Pronouns

  

Lecture 3

Ghair Munsarif, Demonstrative Nouns and Pronouns

غیر منصرف، اسمِ اشارہ اور ضمائر

By: Muhammad Noman

This is the third lecture in the series of Arabic Grammar for Quran Fehmi. In this lecture we will discuss Ghair Munsarif Nouns Cojugation, Mabni Nouns Conjugation, Demostrative Nouns for near and far (Ism-e-Ishara Qareeb and Baeed) and Pronouns (Zamair Munfasila). You can download the book from the link: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing عربی گرامر برائے قرآن فہمی کے سلسلے کا یہ تیسرا لیکچر ہے۔ اس لیکچر میں ہم غیر منصرف اسم کی گردان، مبنی اسم کی گردان، اسمِ اشارہ (قریب اور بعید) اور ضمائر مرفوعہ منفصلہ کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔ ویڈیو میں استعمال ہونے والی کتاب آپ اِس لنک سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing

گزشتہ سبق میں ہم نے یہ پڑھا ہے کہ عربی کے تقریباً 80-85فیصداسماء کا آخری حصہ تینوں حالتوں میں تبدیل ہوجاتا ہے اور ایسے اسماء کو منصرف کہتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی 15-20فیصد اسماء تبدیل ہوتےہیں یا نہیں؟ اور عبارت میں ان کی حالت کو کیسے پہچانتے ہیں؟ اس سبق میں ہم نے یہی بات سمجھنی ہے۔

عربی کے باقی پندرہ بیس فیصد اسماء جو منصرف نہیں ہیں، ان میں سے زیادہ تر ایسے ہوتے ہیں جن کا آخری حرف تینوں حالتوں میں نہیں بدلتا بلکہ وہ صرف دو شکلیں اختیار کرتے ہیں یعنی حالتِ رفع میں ان کی شکل الگ ہوتی ہے لیکن نصب اور جر دونوں حالتوں میں ان کی شکل ایک جیسی رہتی ہے۔ ایسے اسماء کو عربی قواعد میں"معرب غیر منصرف" یا صرف "غیر منصرف"بھی کہا جاتا ہے۔ اسم غیر منصرف کے آخری حرف کی تبدیلی کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:

چند معرب غیر منصرف اسماء کی گردان مع معانی

حالتِ رفع

معنی

حالتِ نصب

حالتِ جر

اِبْرَاھِیْمُ

مرد کا نام

اِبْرَاھِیْمَ

اِبْرَاھِیْمَ

مَکَّةُ

شہر کا نام

مَکَّةَ

مَکَّةَ

مَرْیَمُ

عورت کا نام

مَرْیَمَ

مَرْیَمَ

اِسْرَائِیْلُ

حضرت یعقوب ؑ  کا لقب

اِسْرَائِیْلَ

اِسْرَائِیْلَ

اَحْمَرُ

سرخ

اَحْمَرَ

اَحْمَرَ

اَسْوَدُ

سیاہ

اَسْوَدَ

اَسْوَدَ

اُمید ہے کہ مندرجہ بالا مثالوں میں آپ نے یہ بات نوٹ کرلی ہوگی کہ:

i)     غیر منصرف اسماء کی نصب اور جر ایک ہی شکل میں آتی ہے۔ مثلاً اِبْرَاھِیْمُ حالتِ رفع سے حالتِ نصب میں اِبْرَاھِیْمَ ہوگیا لیکن حالتِ جرمیں اِبْرَاھِیْم ِ نہیں ہوا بلکہ اِبْرَاھِیْمَ  ہی رہا۔ اسی طرح باقی اسماء کی بھی نصب اور جر میں ایک ہی شکل ہے۔

ii)     غیر منصرف اسماء کے آخری حرف پر حالتِ رفع میں ایک پیش()اور نصب اور جر دونوں حالتوں میں صرف ایک زبر ()آتی ہے۔ لہٰذا ایک زبر ()لکھتے وقت الف کا اضافہ نہیں ہوتا۔ یہ قاعدہ صرف دو زبر()کے لیے مخصوص ہے۔ یاد رکھئے کہ اسم غیر منصرف کے آخر پر تنوین کبھی نہیں آتی۔جس کی وجہ سے منصرف اور غیر منصرف اسماء میں تمییز کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

عربی زبان کے کچھ گنے چنے اسماء ایسے بھی ہوتے ہیں جو رفع، نصب، جر تینوں حالتوں میں کوئی تبدیلی قبول نہیں کرتے اور تینوں حالتوں میں ایک جیسے رہتے ہیں۔ ایسے اسماء کو  مَبْنِی کہتے ہیں۔ ان کا کوئی قاعدہ نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں بھی ہمارا طریقۂ  کار یہ ہوگا کہ ذخیرۂ الفاظ میں ان کے آگے (م) بناکر ہم نشاندہی کریں گے کہ یہ الفاظ مبنی ہیں۔ ان کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں :

چند مبنی اسماء کی گردان مع معانی

حالتِ رفع

معنی

حالتِ نصب

حالتِ جر

ھٰذَا

یہ (مذکّر)

ھٰذَا

ھٰذَا

اَلَّذِیْ

جو کہ (مذکّر)

اَلَّذِیْ

اَلَّذِیْ

تِلْکَ

وہ (مؤنّث)

تِلْکَ

تِلْکَ

ہر زبان میں کسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کچھ الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے اردو میں  "یہ  ۔  وہ  ۔  اِس  ۔  اُس "  وغیرہ ہیں ۔ عربی میں ایسے الفاظ کو اسماء الاشارہ کہتے ہیں۔اسماء اشارہ دو طرح کے ہوتے ہیں ۔  (i)قریب کے لیے جیسے اردو میں"یہ"اور "اِس" (This/These)ہیں۔ (ii)  بعید کے لیے جیسے اردو میں "وہ"اور  "اُس" (That/Those) ہیں ۔

اشارہ قریب اور اشارہ بعید کے لیے استعمال ہونے والے عربی اسماء یہاں دئیے جارہے ہیں ۔   

اشارہ قریب

 

 

رفع

نصب

جر

ترجمہ

مذکر

واحد

ہٰذَا

ہٰذَا

ہٰذَا

یہ ایک مذکر

مثنیّٰ

ہٰذَانِ

ہٰذَیۡنِ

ہٰذَیۡنِ

یہ دو مذکر

جمع

ہٰۤـؤُلَا ٓءِ

ہٰۤـؤُلَا ٓءِ

ہٰۤـؤُلَا ٓءِ

یہ سب مذکر

مؤنث

واحد

ہٰذِہٖ

ہٰذِہٖ

ہٰذِہٖ

یہ ایک مؤنث

مثنیّٰ

ہَاتَانِ

ہَاتَیۡنِ

ہَاتَیۡنِ

یہ دو مؤنث

جمع

ہٰۤـؤُلَآءِ

ہٰۤـؤُلَآءِ

ہٰۤـؤُلَآءِ

یہ سب مؤنث

   اشارہ بعید

 

 

رفع

نصب

جر

ترجمہ

مذکر

واحد

ذٰلِکَ

ذٰلِکَ

ذٰلِکَ

وہ ایک مذکر

مثنیّٰ

ذٰنِکَ

ذَیۡنِکَ

ذَیۡنِکَ

وہ دو مذکر

جمع

اُولٰٓئِکَ

اُولٰٓئِکَ

اُولٰٓئِکَ

وہ سب مذکر

مؤنث

واحد

تِلۡکَ

تِلۡکَ

تِلۡکَ

وہ ایک مؤنث

مثنیّٰ

تَانِکَ

تَیۡنِکَ

تَیۡنِکَ

وہ  دو مؤنث

جمع

اُولٰٓئِکَ

اُولٰٓئِکَ

اُولٰٓئِکَ

وہ سب مؤنث


Friday, 28 May 2021

Lecture 2 Mo'rab Munsarif Noun Conjugation

 

Lecture 2 Mo'rab Munsarif Noun Conjugation

معرب منصرف اسم کی گردان

By: Muhammad Noman

This is the second lecture in the series of Arabic Grammar for Quran Fehmi. In this lecture we will discuss Conjugation of Mo'rab Munsarif Noun (Ism), common and proper. You can download the book from the link: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing عربی گرامر برائے قرآن فہمی کے سلسلے کا یہ دوسرا لیکچر ہے۔ اس لیکچر میں ہم معرب منصرف اسم کی گردان مکمل کریں گے نکرہ اور معرفہ دونوں۔ ویڈیو میں استعمال ہونے والی کتاب آپ اِس لنک سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing

کسی بھی زبان میں کوئی اسم جب گفتگو یا تحریر میں استعمال ہوتا ہے تو وہ تین حالتوں میں سے کسی ایک میں ہی استعمال ہوتا ہے۔ چوتھی حالت کوئی نہیں ہوسکتی۔ یا تو وہ اس عبارت میں فاعل کے طور پر مذکور ہوگا۔ یعنی حالتِ فاعلی میں ہوگا۔ یا پھر حالتِ مفعولی میں ہوگا اور یا کسی دوسرے اسم وغیرہ کی اضافت اورتعلق سے مذکور ہوگا۔ اس حالت کو حالتِ اضافی کہتے ہیں۔ دورانِ استعمال اسم کی حالت کو انگریزی میں Caseکہتے ہیں۔ انگریزی میں بھی Case تین ہی ہوتے ہیں جوNominative یا  Objective یا  Possessive کہلاتے ہیں۔ عربی میں بھی اسم کے استعمال کی یہی تین حالتیں ہوتی ہیں۔ انہیں حالتِ رفع، حالتِ نصب اور حالتِ جر یا مختصراً رفع، نصب اور جر کہتے ہیں۔ خیال رہے کہ جو اسم حالتِ رفع میں ہو اسے مرفوع ، جو حالتِ نصب میں ہو اسے منصوب اور جو حالتِ جر میں ہو اسے مجرور کہتے ہیں۔ اس طرح اردو اور انگریزی گرامر کی مدد سے عربی گرامر میں اسم کی حالت کو بآسانی سمجھا جاسکتا ہے صرف اصطلاحی ناموں کا فرق ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم عربی کی اصطلاحات کو مندرجہ ذیل نقشہ سے سمجھ کر یاد کرلیں:


انگریزی

Nominative

Case

Objective

Case

Possessive

Case

عربی

رَفۡعٌ

نَصۡبٌ

جَرٌّ

اردو

حالتِ فاعلی

حالتِ مفعولی

حالتِ اضافی

            مختلف حالتوں میں استعمال ہوتے وقت بعض زبانوں کے اسماء  میں کچھ تبدیلی واقع ہوتی ہے جس کی مدد سے ہم پہچانتے ہیں کہ عبارت میں کوئی اسم کس حالت میں استعمال ہوا ہے۔ اس بات کو ہم اردو کے ایک جملہ کی مدد سے سمجھتے ہیں، مثلاً "حامد نے محمود کو مارا"۔ اب اگر ہم آپ سے پوچھیں کہ اس میں فاعل کون ہے اور مفعول کون ہے، تو آپ فوراً بتادیں گے کہ حامد فاعل اور محمود مفعول ہے۔ لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ جملہ کا مفہوم سمجھتے ہیں۔ اس لیے یہ بات بتانے میں آپ کو مشکل پیش نہیں آئی۔

اب فرض کریں کہ ایک شخص کو اردو نہیں آتی اور وہ گرامر کی مدد سے اردو سیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ پہلے وہ عبارت میں اسم کی حالت کو پہچانے۔ اس کے بعد ہی ممکن ہوگا کہ وہ عبارت کا صحیح مفہوم سمجھ سکے۔ اس لیے پہلے ہمیں اس کو کوئی علامت یا نشانی بتانی ہوگی جس کی مدد سے وہ مذکورہ جملہ میں فاعل اور مفعول کو پہچان سکے۔ اس پہلو سے آپ مذکورہ جملہ پر دوبارہ غور کرکے وہ علامت معلوم کرنے کی کوشش کریں جس کی مدد سے اس میں فاعل اور مفعول یعنی عبارت میں اسم کی حالت کو پہچانا جا سکے۔ جو طلبہ اس کوشش میں ناکام رہے ہیں ان کی مدد کے لیے اس جملہ میں تھوڑی سی تبدیلی کردیتے ہیں۔ آپ اس پر دوبارہ غور کریں۔ ان شاء اللہ

اب آپ علامت کو پہچان لیں گے۔ "حامد کو محمود نے مارا"۔ اب آپ آسانی سے بتاسکتے ہیں کہ اردو میں زیادہ تر فاعل کے ساتھ "نے" اور مفعول کے ساتھ "کو" لگا ہوا ہوتا ہے۔ اسی طرح اب یہ بھی سمجھ لیں کہ اردو میں حالتِ اضافی میں زیادہ تر دو اسماء کے درمیان"کا" یا "کی" لگا ہوتا ہے۔ جیسے لڑکے کا قلم، لڑکے کی کتاب وغیرہ۔

اب سوال یہ ہے کہ عربی کی عبارت میں استعمال ہونے والے اسماء کی حالت کو پہچاننے کی علامات کیا ہیں۔ اس ضمن میں پہلی بات یہ نوٹ کرلیں کہ یہ علامات ایک سے زیادہ ہیں۔ لیکن اس سبق میں ہم زیادہ استعمال ہونے والی ایک علامت کو سمجھ کر اس کی مشق کریں گے۔ تاکہ ذہن میں اسم کی حالت کو پہچاننے کا تصور واضح ہوجائے۔ اس کے بعد اگلے اسباق میں دوسری علامات جب زیرِ مطالعہ آئیں گی تو انہیں سمجھنا ان شاء اللہ مشکل نہیں رہے گا۔

اب نوٹ کرلیجئے کہ عربی زبان کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ اس کے اسّی پچاسی فیصد (80-85%)اسماء ایسے ہیں جو رفع، نصب اور جر تینوں حالتوں میں ایک مختلف شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اس سے آپ کے ذہن میں شاید یہ بات آئے کہ اس طرح تو عربی بڑی مشکل زبان ہوگی جس میں ہر اسم کے لیے ایک کے بجائے تین اسم یعنی تین لفظ یاد کرنا پڑیں گے مگر اس وہم کی بنا پر گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک اسم کے لیے ایک ہی لفظ یاد کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ عربی زبان کے اسماء کو استعمال کرتے وقت حالت کے لحاظ سے جو تبدیلی آتی ہے وہ لفظ کے صرف "آخری حصّے"میں واقع ہوتی ہے۔ مثلاً کوئی اسم اگر پانچ حرفوں کا ہے تو پہلے چار حرفوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ صرف آخری یعنی پانچویں حرف کے پڑھنے کا طریقہ بدل جائے گا۔ اسی طرح کوئی اسم اگر تین حرفوں کا ہے تو پہلے دو حرفوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ صرف آخری یعنی تیسرے حرف کے پڑھنے کا طریقہ بدلے گا۔ مثلاً حالتِ فاعلی، مفعولی اور اضافی میں لفظ لڑکا کی عربی علی الترتیب "وَلَدٌ، وَلَدًا اور  وَلَدٍ" ہوگی۔

ابھی ہم نے پڑھا ہے کہ عربی کے تقریبا اسی پچاسی فیصد اسماء کا آخری حصہ  رفع، نصب اور جر تینوں حالتوں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ جو اسم تینوں حالتوں میں یہ تبدیلی قبول کرتا ہے اسے عربی قواعد میں "مُعۡرَب مُنۡصَرِف" یا صرف "منصرف" بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی پہچان کا عام طریقہ یہ ہے کہ اس کے آخری حرف پر تنوین آتی ہے۔ یعنی حالتِ رفع میں دو پیش ()، حالتِ نصب میں دو زبر () اور حالتِ جر میں دو زیر ()ہوتی ہے۔ اس معرب منصرف کے آخری حرف کی تبدیلی کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:  

چند معرب منصرف اسماء کی گردان مع معانی


حالتِ رفع

معنی

حالتِ نصب

حالتِ جر

مُحَمَّدٌ

نام ہے

مُحَمَّدًا

مُحَمَّدٍ

شَیْءٌ

چیز

شَیْئًا

شَیْءٍ

جَنَّةٌ

باغ

جَنَّةً

جَنَّةٍ

بِنْتٌ

لڑکی

بِنْتًا

بِنْتٍ

سَمَآءٌ

آسمان

سَمَآءً

سَمَآءٍ

سُوْ ءٌ

برائی

سُوْ ءًا

سُوْ ءٍ

اُمید ہے کہ مندرجہ بالا مثالوں میں آپ نے یہ بات نوٹ کرلی ہوگی کہ:

i)       جس اسم پر حالتِ نصب میں دو زبر()آتے ہیں، اس کے آخر میں ایک الف بڑھا دیا جاتا ہے مثلاً  مُحَمَّدٌ
سے مُحَمَّدً لکھنا غلط ہے بلکہ مُحَمَّدًا  لکھا جائے گا۔ اسی طرح کِتَابٌ سے کِتَابًا،  رَسُوْلٌ سے رَسُوْلًا
وغیرہ۔

ii)     اس قاعدہ کے دو استثناء ہیں۔ اوّل یہ کہ جس لفظ کا آخری حرف گول ة یعنی تائے مربوطہ ہو اس پر دو زبر لکھتے وقت الف کا اضافہ نہیں ہوگا  مثلاً  جَنَّتًا لکھنا غلط  ہے، اسے جَنَّةً  لکھا جائے گا۔ اسی طرح ا ٰیَۃٌ سے ا ٰیَۃً وغیرہ۔ دیکھئے! بِنْتٌ کا لفظ گول  'ة' پر نہیں بلکہ لمبی 'ت' (تائے مبسوطہ) پر ختم ہورہا ہے۔ اس لیے اس پر استثناء کا اطلاق نہیں ہوا اور حالتِ نصب میں اس پر دو زبر لکھتے وقت الف کا اضافہ کیا گیا۔

iii)   دوسرا استثناء یہ ہے کہ جو لفظ الف کے ساتھ ہمزہ پر ختم ہوا س کے آخر میں بھی الف کا اضافہ نہیں ہوگا مثلاً  سَمَاءٌ
سے سَمَاءً۔ دیکھئے شَیْءٌ  کا لفظ بھی ہمزہ پر ختم ہورہا ہے لیکن اس سے قبل الف نہیں بلکہ "ی"ہے اس لیے اس پر دو
زبر لگاتے وقت الف کا اضافہ کیا گیا ہے یعنی  شَیْءٌ سے شَیْئًا۔