Tuesday, 29 June 2021

Lecture 9 Present Future Active and Passive Voice

Lecture 9 Present Future Active and Passive Voice

فعل مضارع معروف و مجہول

By Muhammad Noman

This is the ninth lecture in the series of Arabic Grammar for Quran Fehmi. In this lecture we will discuss Past Passive Verb (Fail Maazi Majhool), Present Future Active and Passive Verb (Fail Muzare Maroof wa Majhool). We will do lots of practice and understand the concept of different patterne of present future active verb. We will also learn about difference between Active and Passive Voice in Arabic. You can download the book from the link: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing عربی گرامر برائے قرآن فہمی کے سلسلے کا یہ نواں لیکچر ہے۔ اس لیکچر میں ہم فعل ماضی مجہول، فعل مضارع معروف اور فعل مضارع مجہول کے اوزان اور اس کی گردان کی مشق کریں گے۔ معروف اور مجہول میں کیا فرق ہوتا ہے اُس کو بھی سمجھیں گے۔ اور فعل مضارع معروف کے مختلف اوزان پر بھی گفتگو کریں گے۔ ویڈیو میں استعمال ہونے والی کتاب آپ اِس لنک سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing


Wednesday, 23 June 2021

Lecture 8 Past Active Verb

 Lecture 8 Past Active Verb

فعل ماضی معروف

By Muhammad Noman

This is the eighth lecture in the series of Arabic Grammar for Quran Fehmi. In this lecture we will discuss Past Active Verb (Fail Maazi Maroof). We will do lots of practice and understand the concept of different patterne of past active verb. We will also learn about difference between Active and Passive Voice in Arabic. You can download the book from the link: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing عربی گرامر برائے قرآن فہمی کے سلسلے کا یہ آٹھواں لیکچر ہے۔ اس لیکچر میں ہم فعل ماضی معروف کے اوزان اور اس کی گردان کی مشق کریں گے۔ معروف اور مجہول میں کیا فرق ہوتا ہے اُس کو بھی سمجھیں گے۔ اور فعل ماضی معروف کے مختلف اوزان پر بھی گفتگو کریں گے۔ ویڈیو میں استعمال ہونے والی کتاب آپ اِس لنک سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing


Wednesday, 16 June 2021

Lecture 7 Verbal Sentence, Root Letters and Pattern

 Lecture 7 Verbal Sentence, Root Letters and Pattern

جملہ فعلیہ، مادّہ اور وزن

By Muhammad Noman

This is the seventh lecture in the series of Arabic Grammar for Quran Fehmi. In this lecture we will discuss Verbal Sentence (Jumla Failiyah) including Verb (Fail), Subject (Faail) and Object (Mafool). Also we will discuss Root Letters (Madda) and Pattern (Wazan) with examples. You can download the book from the link: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing عربی گرامر برائے قرآن فہمی کے سلسلے کا یہ ساتواں لیکچر ہے۔ اس لیکچر میں ہم جملہ فعلیہ جس کے ذیل میں فعل، فاعل اور مفعول کے تصورات کو سمجھیں گے اور ساتھ ہی ساتھ مادّہ اور وزن کو تفصیلی مثالوں کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ ویڈیو میں استعمال ہونے والی کتاب آپ اِس لنک سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing


Monday, 7 June 2021

Lecture 6 Compounds

Lecture 6 Compounds

مرکبات

By Muhammad Noman

This is the sixth lecture in the series of Arabic Grammar for Quran Fehmi. In this lecture we will discuss Compounds (Murakkabat) and its two types. One is called Phrase (Murakkab-e-Naqis) and other is knows Sentence. In this lecture we have discussed following types of phrase: 1. Hendiadyses (Murakkab-e-Atafi) 2. Adjectival Compound (Murakkab-e-Tauseefi) 3. Relative Compound (Murakkab-e-Izafi) 4. Genitive Compound (Murakkab-e-Jaari) 5. Demonstrative Compound (Murakkab-e-Ishari) and one type of sentence i.e. Nominal Sentence (Jumla Ismiyah). You can download the book from the link: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing عربی گرامر برائے قرآن فہمی کے سلسلے کا یہ چھٹا لیکچر ہے۔ اس لیکچر میں ہم مرکبات اور اس کی اقسام کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔ اِس لیکچر میں ہم نے مرکبِ ناقص کی درج ذیل اقسام پر گفتگو کی ہے: 1. مرکب عطفی 2. مرکب توصیفی 3. مرکبِ اضافی 4. مرکبِ جاری 5. مرکبِ اشاری اور جملہ کے حوالے سے جملہ اسمیہ پر کلام کیا ہے۔ ویڈیو میں استعمال ہونے والی کتاب آپ اِس لنک سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing



Friday, 4 June 2021

Lecture 5 Interogative Pronouns to Particles Resembling to Verb

Lecture 5 Interogative Pronouns to Particles Resembling to Verb



اسماءِ استفہام تا حروف مشبہ بالفعل

By Muhammad Noman

This is the fifth lecture in the series of Arabic Grammar for Quran Fehmi. In this lecture we will discuss Interogative Pronouns (Asma-e-Istifham), Conjunctional Nouns (Asma-e-Mausoola), Conjuctions (Huroof-e-Ataf), Particles of Interogative (Huroof-e-Istifham) and Particles resembling verbs (Huroof Mushabbah Bil Fail). You can download the book from the link: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing عربی گرامر برائے قرآن فہمی کے سلسلے کا یہ پانچواں لیکچر ہے۔ اس لیکچر میں ہم اسماء استفہام، اسماء موصولہ، حروفِ عطف، حروفِ استفہام اور حروف مشبہ بالفعل کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔ ویڈیو میں استعمال ہونے والی کتاب آپ اِس لنک سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing


Tuesday, 1 June 2021

Lecture 4 Adjacent Pronouns, Prepositions and Adverbs

Lecture 4 Adjacent Pronouns, Prepositions and Adverbs

ضمائر متصلہ، حروف جار اور ظرف

By Muhammad Noman

This is the fourth lecture in the series of Arabic Grammar for Quran Fehmi. In this lecture we will discuss Adjacent Pronounts (Zamair Muttasila), Prepositions (Huroof-e-Jaar) and Adverbs (Zarf). You can download the book from the link: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing عربی گرامر برائے قرآن فہمی کے سلسلے کا یہ چوتھا لیکچر ہے۔ اس لیکچر میں ہم ضمائر متصلہ، حروفِ جار اور ظرف (ظرفِ مکان اور ظرف زمان) کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔ ویڈیو میں استعمال ہونے والی کتاب آپ اِس لنک سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing


اس جملہ پر غور کریں " لڑکے کی کتاب اور لڑکے کا قلم" ۔ اس جملہ میں اسم " لڑکے" کی تکراربُری لگتی ہے  لہٰذا اس بات کی ادائیگی کا بہتر انداز یہ ہے " لڑکے کی کتاب اور اُس کا قلم"۔ اسی طرح ہم کہتے ہیں "  بچی کی استانی اور اس کا اسکول "۔ عربی میں ایسے مقامات پر جو ضمیریں استعمال ہوتی ہیں ان میں بھی غائب  مخاطب اور متکلم کے علاوہ جنس اور عدد کے تمام صیغوں کا فرق نسبتاً زیادہ واضح ہے۔ اب ان ضمیروں کو یاد کرلیں۔


ضمائر مجرورہ متّصلہ

 

 

واحد

مثنیّٰ

جمع

غائب

مذکّر

ہٖٗ  -  ہُ ِ

(His, Him)

ہُمَا - ہِمَا

(Their, Them)

ھُمْ ہِمۡ

(Their, Them)

اس (ایک مذکر) کا

ان (دو مذکر) کا

ان (سب مذکر) کا

مؤنّث

ھَا

(Her)

ھُمَا ہِمَا

(Their, Them)

ھُنَّ ہِنَّ

(Their, Them)

اس(ایک مؤنث ) کا

ان (دو مؤنث) کا

ان (سب مؤنث)کا

مخاطب

مذکّر

کَ

(Your, You)

کُمَا

(Your, You)

کُمْ

(Your, You)

تیرا (ایک مذکر)

تم د ونوں(مذکر)  کا

تم سب (مذکر) کا

مؤنّث

کِ

(Your, You)

کُمَا

(Your, You)

کُنَّ

(Your, You)

تیرا(ایک مؤنث)

تم دونوں(مؤنث)کا

تم (سب مؤنث)کا

متکلم

مذکّر و

مؤنّث

یَ یۡ

(My, Me)

نَا

(Ours, Us)

نَا

(Ours, Us)

میرا

ہمارا

ہمارا

ان ضمیروں کا استعمال سمجھنے کے لیے اوپر دی گئی مثالوں کا ترجمہ کریں۔  پہلے جملہ  کا ترجمہ ہوگا کِتَابُ الۡوَلَدِ وَ قَلَمُہٗ۔ اور دوسرے جملہ کا ترجمہ ہوگا مُعَلِّمَةُ الطِّفْلَةِ وَمَدْرَسَتُھَا۔ اب ان مثالوں پر ایک مرتبہ پھر غور کریں۔ دیکھیں قَلَمُہٗ(اس کا قلم) اصل میں تھا " لڑکے کا قلم"۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں ہٗ کی ضمیر لڑکے کے لیے آئی ہے جو اس جملہ میں مضاف الیہ ہے۔ اسی طرح مَدْرَسَتُھَا (اُس کا مدرسہ) اصل میں تھا "بچی کا مدرسہ"۔ چنانچہ یہاں ھَا  کی ضمیر بچی کے لیے آئی ہے اور وہ بھی مضاف الیہ ہے۔ اس طرح معلوم ہوا کہ یہ ضمیریں زیادہ تر مضاف الیہ بن کر آتی ہیں اور مضاف الیہ چونکہ ہمیشہ حالتِ جر میں ہوتا ہے اس لیے ان ضمائر کو حالتِ جر میں فرض کرلیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام ضمائرِ مجرورہ ہے۔

یہ بھی نوٹ کرلیں کہ یہ ضمیریں زیادہ تر اپنے مضاف کے ساتھ ملا کر لکھی جاتی ہیں۔ جیسے رَبُّہٗ (اس کا رب)، رَبُّکَ (تیرا رب)، رَبِّیۡ (میرا رب)، رَبُّنَا(ہمارا رب) وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام ضمائر متّصلہ بھی ہے۔

حروفِ جارہ

Prepositions

عربی میں کچھ حروف ایسے ہیں کہ جب وہ کسی اسم پر داخل ہو تے ہیں تو اسے حالتِ جر میں لے آتے ہیں۔ مثلاً ان میں سے ایک حرف  "فِیۡ" ہے جس کے معنی ہیں "میں"۔ یہ جب "اَلْمَسْجِدُ"پر داخل ہو گا تو ہم"فِی الْمَسْجِدِ"(مسجد میں)کہیں گے۔ ایسے حرف کو حرف ِجارّ کہتے ہیں اور ان کے کسی اسم پر داخل ہو نے سے جو مرکب وجود میں آ تا ہے اسے مرکب جاری کہتے ہیں ۔چنانچہ مذکو رہ مثا ل میں  "فِیۡ" حرف ِجار ہے اور"فِی الْمَسْجِدِ" مرکب جاری ہے ۔

مرکب جا ری میں حرفِ جا ر کو "جار"کہتے ہیں اور جس اسم پریہ حرف داخل ہو اسے "مجرور"کہتے ہیں ۔چنا نچہ جا ر و مجرورمل کر مرکب جا ری بنتا ہے ۔ 

مندرجہ ذیل چند حروف جا رّہ کے معا نی یا د کریں :

حروف

معنی

مثالیں

بِ

میں ۔  سے ۔کو ۔ ساتھ

بِرَجُلٍ (ایک مردکے ساتھ )، بِالْقَلَمِ (قلم سے )

فِیْ

میں

فِیْ بَیْتٍ  (کسی گھر میں)،  فِی الْبُسْتَانِ  (باغ میں)

عَلٰی

پر

عَلٰی جَبَلٍ (کسی پہاڑ پر )،  عَلَی الْعَرشِ (عرش پر)

اِلٰی

کی طرف ۔ تک

اِلٰی بَلَدٍ (کسی شہر کی طرف)،  اِلَی الْمَدْرَسَةِ (مدرسہ تک)

مِنْ

سے

مِنْ زَیْدٍ  (زید سے)،  مِنَ الْمَسْجِدِ  (مسجد سے )

لِ

کے واسطے۔ کو۔ کے

لِزَ  یْدٍ ( زید کے واسطے )

 کَ

مانند ۔ جیسا

کَرَجُلٍ (کسی مرد کی مانند)،  کَالْاَسَدِ  (شیر کے جیسا)

عَنْ

کی طرف سے

عَنْ زَیْدٍ  (زید کی طرف سے)