Lecture 4 Adjacent Pronouns, Prepositions and Adverbs
ضمائر متصلہ، حروف جار اور ظرف
By Muhammad Noman
This is the fourth lecture in the series of Arabic Grammar for Quran Fehmi. In this lecture we will discuss Adjacent Pronounts (Zamair Muttasila), Prepositions (Huroof-e-Jaar) and Adverbs (Zarf). You can download the book from the link: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing عربی گرامر برائے قرآن فہمی کے سلسلے کا یہ چوتھا لیکچر ہے۔ اس لیکچر میں ہم ضمائر متصلہ، حروفِ جار اور ظرف (ظرفِ مکان اور ظرف زمان) کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔ ویڈیو میں استعمال ہونے والی کتاب آپ اِس لنک سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing
اس جملہ پر غور کریں " لڑکے کی کتاب اور لڑکے کا قلم" ۔ اس جملہ میں اسم " لڑکے" کی تکراربُری لگتی ہے لہٰذا اس بات کی ادائیگی کا بہتر انداز یہ ہے
" لڑکے کی کتاب اور اُس کا قلم"۔ اسی طرح ہم کہتے ہیں " بچی کی استانی اور اس کا اسکول "۔ عربی
میں ایسے مقامات پر جو ضمیریں استعمال ہوتی ہیں ان میں بھی غائب مخاطب اور متکلم کے علاوہ جنس اور عدد کے تمام
صیغوں کا فرق نسبتاً زیادہ واضح ہے۔ اب ان ضمیروں کو یاد کرلیں۔
ضمائر مجرورہ متّصلہ
|
|
|
واحد |
مثنیّٰ |
جمع |
|
غائب |
مذکّر |
ہٖٗ - ہُ ِ (His, Him) |
ہُمَا - ہِمَا (Their, Them) |
ھُمْ – ہِمۡ (Their,
Them) |
|
اس (ایک مذکر) کا |
ان (دو مذکر) کا |
ان (سب مذکر) کا |
||
|
مؤنّث |
ھَا (Her) |
ھُمَا – ہِمَا (Their, Them) |
ھُنَّ – ہِنَّ (Their,
Them) |
|
|
اس(ایک مؤنث ) کا |
ان (دو مؤنث) کا |
ان (سب مؤنث)کا |
||
|
مخاطب |
مذکّر |
کَ (Your, You) |
کُمَا (Your, You) |
کُمْ (Your,
You) |
|
تیرا (ایک مذکر) |
تم د ونوں(مذکر) کا |
تم سب (مذکر) کا |
||
|
مؤنّث |
کِ (Your, You) |
کُمَا (Your, You) |
کُنَّ (Your,
You) |
|
|
تیرا(ایک مؤنث) |
تم دونوں(مؤنث)کا |
تم (سب مؤنث)کا |
||
|
متکلم |
مذکّر و مؤنّث |
یَ – یۡ (My, Me) |
نَا (Ours, Us) |
نَا (Ours,
Us) |
|
میرا |
ہمارا |
ہمارا |
ان ضمیروں کا استعمال سمجھنے کے لیے اوپر دی گئی مثالوں کا ترجمہ کریں۔ پہلے جملہ کا ترجمہ ہوگا کِتَابُ الۡوَلَدِ وَ قَلَمُہٗ۔ اور دوسرے جملہ کا ترجمہ ہوگا مُعَلِّمَةُ الطِّفْلَةِ وَمَدْرَسَتُھَا۔ اب ان مثالوں پر ایک مرتبہ پھر غور کریں۔ دیکھیں قَلَمُہٗ(اس کا قلم) اصل میں تھا " لڑکے کا قلم"۔ اس سے معلوم ہوا کہ
یہاں ہٗ کی ضمیر لڑکے کے لیے آئی ہے جو اس جملہ میں مضاف الیہ ہے۔ اسی طرح مَدْرَسَتُھَا (اُس کا مدرسہ) اصل میں تھا "بچی کا مدرسہ"۔ چنانچہ یہاں ھَا کی ضمیر بچی کے لیے آئی ہے اور
وہ بھی مضاف الیہ ہے۔ اس طرح معلوم ہوا کہ یہ ضمیریں زیادہ تر مضاف الیہ بن کر آتی
ہیں اور مضاف الیہ چونکہ ہمیشہ حالتِ جر میں ہوتا ہے اس لیے ان ضمائر کو حالتِ جر
میں فرض کرلیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام ضمائرِ مجرورہ ہے۔
یہ بھی نوٹ کرلیں کہ یہ ضمیریں زیادہ تر اپنے مضاف کے ساتھ ملا کر لکھی
جاتی ہیں۔ جیسے رَبُّہٗ (اس کا رب)، رَبُّکَ (تیرا رب)، رَبِّیۡ (میرا رب)، رَبُّنَا(ہمارا رب) وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام ضمائر متّصلہ بھی ہے۔
حروفِ جارہ
Prepositions
عربی میں کچھ حروف ایسے ہیں کہ جب وہ کسی اسم پر داخل ہو تے ہیں تو اسے
حالتِ جر میں لے آتے ہیں۔ مثلاً ان میں سے ایک حرف "فِیۡ" ہے جس کے معنی ہیں "میں"۔ یہ جب "اَلْمَسْجِدُ"پر داخل ہو گا تو ہم"فِی الْمَسْجِدِ"(مسجد میں)کہیں گے۔ ایسے حرف کو حرف ِجارّ کہتے ہیں اور ان کے کسی اسم پر داخل ہو نے سے جو
مرکب وجود میں آ تا ہے اسے مرکب جاری کہتے ہیں ۔چنانچہ مذکو رہ مثا ل میں "فِیۡ" حرف ِجار ہے اور"فِی الْمَسْجِدِ" مرکب جاری ہے ۔
مرکب جا ری میں حرفِ جا ر کو "جار"کہتے ہیں اور جس اسم پریہ حرف داخل ہو اسے
"مجرور"کہتے
ہیں ۔چنا نچہ جا ر و مجرورمل کر مرکب جا ری بنتا ہے ۔
مندرجہ ذیل چند حروف جا رّہ کے معا نی یا د کریں :
|
حروف |
معنی |
مثالیں |
|
بِ |
میں ۔ سے ۔کو ۔ ساتھ |
بِرَجُلٍ (ایک مردکے ساتھ )، بِالْقَلَمِ (قلم سے ) |
|
فِیْ |
میں |
فِیْ بَیْتٍ (کسی گھر میں)، فِی الْبُسْتَانِ (باغ میں) |
|
عَلٰی |
پر |
عَلٰی
جَبَلٍ (کسی پہاڑ پر )،
عَلَی الْعَرشِ (عرش پر) |
|
اِلٰی |
کی طرف ۔ تک |
اِلٰی بَلَدٍ (کسی شہر کی طرف)، اِلَی الْمَدْرَسَةِ (مدرسہ تک) |
|
مِنْ |
سے |
مِنْ زَیْدٍ (زید سے)، مِنَ الْمَسْجِدِ (مسجد سے ) |
|
لِ |
کے واسطے۔ کو۔ کے |
لِزَ یْدٍ ( زید کے واسطے ) |
|
کَ |
مانند ۔ جیسا |
کَرَجُلٍ (کسی مرد کی مانند)، کَالْاَسَدِ (شیر کے جیسا) |
|
عَنْ |
کی طرف سے |
عَنْ زَیْدٍ (زید کی طرف سے) |
No comments:
Post a Comment