Thursday, 27 May 2021

Lecture 1 Types of Noun

Lecture 1 Types of Noun

اسم کی اقسام

By: Muhammad Noman

This is the first lecture in the series of Arabic Grammar for Quran Fehmi. In this lecture we will discuss basic types of Ism (noun) and four aspects of Ism. You can download the book from the link: https://drive.google.com/file/d/1_fT0IgmiuZFwZEsBZGze5ZPai2WCMjQr/view?usp=sharing
عربی گرامر برائے قرآن فہمی کے سلسلے کا یہ پہلا لیکچر ہے۔
اس لیکچر میں ہم اسم کی اقسام اور اسم کے چار پہلوؤں کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔
ویڈیو میں استعمال ہونے والی کتاب آپ اِس لنک سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں:

Watch here or go to the link: https://youtu.be/c-kVvuhNlfI

1:1           دنیا کی کسی بھی زبان کو سیکھنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ اوّل یہ کہ اس زبان کو بولنےوالوں میں بچپن سے ہی یا بعد میں رہ کر وہ زبان سیکھی جائے۔ دوم یہ کہ کسی سیکھی ہوئی زبان کی مدد سے نئی زبان کے قواعد سمجھ کر اسے سیکھا جائے۔ درسی طریقے سے یعنی قواعد و گرامر کے ساتھ زبان سیکھنے کے لیے دو کام بہت ضروری ہیں۔ اوّل یہ کہ اس زبان کے زیادہ سے زیادہ الفاظ کا ذخیرہ ہم اپنے ذہن میں جمع کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ دوم یہ کہ اس ذخیرۂ الفاظ کو درست طریقہ پر استعمال کرنا سیکھیں۔

1:2          

الفاظ کو "درست طریقہ سے استعمال کرنا" سکھانے کے لیے کسی زبان کی گرامر کےقواعد مرتّب کیے جاتے ہیں۔ یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ زبان پہلے وجود میں آجاتی ہے پھر بعد میں ضرورت پڑنے پر اس کے   قواعد مرتّب کیے جاتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پہلے قواعد مرتّب کرکے کوئی نئی زبان وجود میں لائی گئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن قواعد معدودے چند کے ہی مرتّب کیے گئے ہیں۔ بقیہ زبانوں کے لیے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ۔ اور یہی وجہ ہے کہ کسی زبان کے قواعد اس زبان کے تمام الفاظ پر حاوی نہیں ہوتے بلکہ کچھ نہ کچھ الفاظ ضرور مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ یہ مسئلہ ہر زبان کے ساتھ ہے، فرق صرف کم اور زیادہ کا ہے۔ یہ بات اہم ہے ، اسے نوٹ کرلیں اور گرامر کا کوئی قاعدہ پڑھیں تو اس کے استثناء کے لیے ذہن میں ایک کھڑکی ضرور کھلی رکھیں ورنہ آپ پریشان ہوں گے۔

1:3           کسی زبان کے قواعد مرتّب کرنے کی ضرورت اس وقت محسوس ہوتی ہے جب دوسری زبانیں بولنے والے لوگ اُس زبان کو تدریسی طریقے پر سیکھنا چاہیں۔ ایسی  صورتِ حال بالعموم دو ہی وجہ سے پیش آتی ہے۔ اوّل یہ کہ کسی زبان کو بولنے والی قوم کو دوسری اقوام پر سیاسی غلبہ اور اقتدار حاصل ہوجائے اور ان کی زبان سرکاری زبان قرار پائے۔ اس طرح دوسری اقوام کے لوگ خود کو وہ زبان سیکھنے پر مجبور پائیں۔ دوم یہ کہ کوئی زبان کسی مذہبی کتاب کی یا کسی مذہب کے لٹریچر کی زبان ہو اور اس مذہب کے پیرو یا بعض دفعہ غیر پیرو بھی اس مذہب کے عقائد اور شریعت کے مصادر تک براہِ راست رسائی حاصل کرنے کی غرض سے وہ زبان سیکھنے کے خواہش مند ہوں۔ عربی کو یہ دونوں خصوصیات حاصل ہیں۔ یہ صدیوں تک دنیا کے غالب متمدّن علاقے کی سرکاری زبان رہی ہے اور آج بھی کئی ممالک میں اسی حیثیت سے رائج ہے۔ اسی طرح بلحاظِ آبادی دنیا کے دوسرے بڑے الہامی نظریہ یعنی اسلام کی زبان بھی عربی ہے۔ قرآنِ حکیم اسی زبان میں نازل ہوا اور مجموعۂ احادیث اوّلاً اسی زبان میں مدوّن ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ عربی دنیا کی ان چند زبانوں میں سے ایک ہے جس کے قواعد مرتّب کیے گئے ہیں اور اتنی لگن اور عرق ریزی سے مرتّب کیے گئے ہیں کہ قواعد سے استثناء  کی صورتیں اس زبان میں سب سے کم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ لسانیات عربی کو بلحاظِ گرامر دنیا کی سب سے زیادہ سائنٹفک(Scientific) زبان ماننے پر مجبور ہیں اور عربی قواعد سمجھنے کے بعد اس زبان کا سیکھنا نسبتاً آسان ہے۔

1:4           دنیا کی ہر زبان کے قواعد مرتّب کرنے کا بنیادی طریقۂ  کار قریباً ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ اس زبان کے تمام بامعنی الفاظ یعنی کلمات کو مختلف گروپس (Groups) میں اس انداز سے تقسیم کرلیتے ہیں کہ زبان کا کوئی لفظ اس درجہ بندی (Grouping) سے باہر نہ رہ جائے۔ کلمات کی اس گروپنگ یا تقسیم کو اقسامِ کلمہ یا اجزائے کلام (Parts of Speech) کہتے ہیں۔ مختلف زبانوں کی گرامر لکھنے والے اس زبان کے الفاظ کی مختلف طریقوں پر تقسیم کرتے ہیں۔ مثلاً عربی،  اردو اور فارسی میں یہ تقسیم سہ گانہ ہے۔ یعنی ہر کلمہ اسم، فعل یا حرف ہوتا ہے۔ انگریزی میں اجزائے کلام(Parts of Speech) آٹھ ہیں۔ بہرحال ایک بات قطعی ہے کہ "اسم " اور "فعل" ہر زبان میں سب سے بڑے اور مستقل اجزائے کلام ہیں۔ باقی اجزاء کو بعض اِنہیں میں سے کسی کا حصہ قرار دیتے ہیں اور بعض الگ قسم شمارکرتے ہیں۔ مثلاً اردو، عربی اور فارسی میں ضمیر (Pronoun) اور صفت (Adjective) کو اسم ہی شمار کیا جاتا ہے مگر انگریزی میں "Pronoun" اور "Adjective" الگ الگ اجزائے کلام شمار ہوتے ہیں۔

1:5           درسی طریقے سے کسی زبان کو سیکھنے کے لیے اس کے الفاظ کو درست طریقے پر استعمال کرنا ہی اصل مسئلہ ہوتا ہے اور اس سلسلہ میں فعل اور اسم کے درست استعمال کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ دنیا کہ ہر زبان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ یہی ہیں۔ اسی لیے ہر زبان میں فعل کے استعمال کو درست کرنے کے لیے فعل کی گردانیں، صیغے، مختلف "زمانوں" میں اسی کی صورتیں، مصدر اور مضارع وغیرہ یاد کیے جاتے ہیں۔ مثلاً فارسی میں فعل کے درست استعمال کے لیے مصدر اور مضارع معلوم ہونے چاہئیں اور گردان بھی یا دہونی چاہئے۔ انگریزی میں Verbکی تین شکلیں اور مختلف Tenses کے رٹنے اور یاد کرنے پر طلبہ کئی برس محنت کرتے ہیں۔ گرامر کا وہ حصہ جو اسم اور فعل کی درست بناوٹ سے بحث کرتا ہے، "علم الصرف"کہلاتا ہے جبکہ اسم، فعل اور حرف کا عبارت میں درست استعمال  اور ان کا آپس میں تعلق بیان کرنا "علم النحو" کا ایک اہم جزو ہے۔

1:6          

اسم کے استعمال کو درست کرنے کے لیے کسی زبان کے واحد جمع، مذکّر مؤنّث، معرفہ نکرہ اور اسم کی مختلف حالتوں کے قواعد جاننا ضروری ہیں۔   مثلاًغیرحقیقی مؤنّث کا قاعدہ ہر زبان میں یکساں نہیں ہے۔ جہاز اور چاند کو اردو میں مذکّر مگر انگریزی میں مؤنّث بولا جاتا ہے۔ سورج اور پنکھے کو عربی میں مؤنّث مگر اردو میں مذکّر بولتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ فعل کے درست استعمال کے ساتھ اسم کو بھی ٹھیک طرح استعمال کیا جائے۔ اسم کے درست استعمال کے لیے ہر زبان میں عموماً اور عربی میں خصوصاً اسم کا چار پہلوؤں سے جائزہ لے کر اسے قواعد کے مطابق استعمال کرنا ضروری ہے۔ اس صورت میں اسم کے استعمال میں غلطی نہیں ہوگی۔ وہ چار پہلو ہیں:  (i)حالت (ii)جنس (iii) عدد (iv) وسعت ۔جنہیں ہم انگریزی میں علی الترتیب Case(i) Gender(ii) Number(iii)اورKind(iv)کہتے ہیں۔ عبارت میں استعمال ہوتے وقت ازروئے قواعدِ زبان، ہر اسم کی ایک خاص حالت، جنس، عدد اور وسعت مطلوب ہوتی ہے۔ انہی چار پہلوؤں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہم اپنے اسباق کا آغاز اسم کی حالت کے بیان سے کرتے ہیں۔ لیکن اس سے قبل اسم، فعل اور حرف کی تعریف (Definition)کو دہرا لینا مفید ہوگا۔

اسم:

اسم اس لفظ یا کلمہ کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز، جگہ یا آدمی کا نام یا اس کی صفت ظاہر ہو۔ مثلاً رَجُلٌ(مرد)، حَامِدٌ (خاص نام)، طَیِّبٌ (اچھا)۔ اس کے علاوہ ایسا لفظ یا کلمہ بھی اسم ہوتا ہے جس کے معنی میں کوئی کام کرنے کا مفہوم ہو لیکن اس میں تینوں زمانوں میں سے کوئی زمانہ نہ پایا جاتا ہو۔اس لیے اردو الفاظ کی مدد سے اس کو اچھی طرح سمجھ کر ذہن نشین کرلیں۔

پہلےتین الفاظ پر غور کریں۔ مارا ، مارتا ہے، مارے گا۔ ان تینوں الفاظ میں مارنے کے کام کا مفہوم ہے اور ان میں علی الترتیب ماضی، حال اور مستقبل کے زمانے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ اس لیے یہ تینوں لفظ فعل ہیں۔ پھر ایک لفظ ہے مارنا (ضَرْبٌ)۔ اس میں کام کا مفہوم تو ہے لیکن کسی بھی زمانے کا مفہوم نہیں ہے۔ اس لیے یہ لفظ اسم ہےاور ایسے اسماء کو مصدر کہتے ہیں۔

فعل:

فعل وہ لفظ یا  کلمہ ہے جس سےکسی کام کاکرنایاہونا ظاہر ہو اور اس میں تینوں زمانوں ماضی، حال، مستقبل میں سے کوئی زمانہ بھی پایا جائے۔   مثلاً ضَرَبَ (اس نےمارا)،  ذَھَبَ (وہ گیا)،  یَشْرَبُ (وہ پیتا ہے یا پیے گا)وغیرہ۔ 

حرف:

حرف وہ لفظ یا کلمہ ہے جو اپنے معنی واضح کرنے کے لیے کسی دوسرے کلمہ کا محتاج ہو یعنی کسی اسم یا فعل سے ملے بغیر اس کے معنی واضح نہ ہوں۔ مثلاً  مِنْ کے معنی ہیں "سے" لیکن اس سے کوئی بات واضح نہیں ہوتی۔ جب ہم کہتے ہیں مِنَ الْمَسْجِدِ یعنی مسجد سے، تو بات واضح ہوگئی۔ اِسی طرح عَلٰی (پر)۔ عَلَی الْفَرَسِ (گھوڑے پر)۔اِلٰی (تک-کی طرف)۔ اِلَی السُّوْقِ (بازار تک یا بازار کی طرف)وغیرہ۔





No comments:

Post a Comment